
میں سفر میں تھا میں سفر میں ہوں
مجھے قربتوں کی خبر کہاں
جسےمنزلوں کی خبرنہیں
اسے راستوں کا پتہ کہاں
میرے بے خبر تجھے خبر ہی کہاں کہ بچھڑ گیا تجھ سےکون
کہاں
تجھے اپنی زات عزیز ہے تجھے دوستوں کی خبر کہاں
تو یقین ہے تو میں گُمان ہوں
توعروج ہے میں تو زوال ہوں
میری جاناں ہمارا رشتہ آٹوٹ ہے
ہمیں فاصلوں کی خبر کہاں
یونہی کٹ گئے میرے روزوشب
تجھے کیسے کوئی بتائے اب
تیرے ہجر میں ملے مجھے جو دکھ تجھے ان دُکھوں کی خبر
کہاں
فرخؔ مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھے ہی حوصلہ ملا نہیں
میرے مہرباں تجھے بھلا میری خواہشوں کی خبر کہاں...
بقلم: فرخؔ اقبال
